6 اشعار

آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا

Aaj Phir Gardish-e-Taqdeer Pe Rona Aaya

آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا

«آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیادل کی بگڑی ہوئی تصویر پہ رونا آیا

عشق کی قید میں اب تک تو امیدوں پہ جئےمٹ گئی آس تو زنجیر پہ رونا آیا

کیا حسیں خواب محبت نے دکھایا تھا ہمیںکھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا

پہلے قاصد کی نظر دیکھ کے دل سہم گیاپھر تری سرخئ تحریر پہ رونا آیا

دل گنوا کر بھی محبت کے مزے مل نہ سکےاپنی کھوئی ہوئی تقدیر پہ رونا آیا

کتنے مسرور تھے جینے کی دعاؤں پہ شکیلؔجب ملے رنج تو تاثیر پہ رونا آیا

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں