5 اشعار

نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے

Na Paimane Khanakte Hain Na Daur-e-Jam Chalta Hai

نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے

«نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہےنئی دنیا کے رندوں میں خدا کا نام چلتا ہے

غم عشق سے ہیں غم ہستی کے ہنگامے جدا لیکنوہاں بھی دن گزرتے ہیں یہاں بھی کام چلتا ہے

چھپے ہیں لاکھ حق کے مرحلے گم نام ہونٹوں پراسی کی بات چل جاتی ہے جس کا نام چلتا ہے

جنون رہروی وقت کی رفتار سے پوچھوکوئی منزل نہیں لیکن یہ صبح و شام چلتا ہے

شکیلؔ مست کو مستی میں جو کہنا ہے کہنے دویہ مے خانہ ہے اے واعظ یہاں سب کام چلتا ہے

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں