رقاصۂ حیات سے
کلام: شکیل بدیوانی
پھولوں پہ رقص اور نہ بہاروں پہ رقص کرگلزار ہست و بود میں خاروں پہ رقص کر
ہو کر جمود گلشن جنت سے بے نیازدوزخ کے بے پناہ شراروں پہ رقص کر
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)
مہمان شاعر: شکیل بدیوانی
پھولوں پہ رقص اور نہ بہاروں پہ رقص کرگلزار ہست و بود میں خاروں پہ رقص کر
ہو کر جمود گلشن جنت سے بے نیازدوزخ کے بے پناہ شراروں پہ رقص کر
دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہےتو نہیں ہے تری تصویر تو ہے
ہم سفر چھوڑ گئے مجھ کو تو کیاساتھ میرے مری تقدیر تو ہے