10 اشعار

موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا

Mausam-e-gul Saath Le Kar Barq-o-Dam Aa Hi Gaya

موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا

«موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیایعنی اب خطرے میں گلشن کا نظام آ ہی گیا

وہ نگاہ مست اٹھی گردش میں جام آ ہی گیایعنی وقت امتیاز خاص و عام آ ہی گیا

جو اٹھا کرتے تھے اظہار تقدس کے لیےان لرزتے کانپتے ہاتھوں میں جام آ ہی گیا

نور و ظلمت پر تبسم کفر و دیں پر قہقہےزندگی کو نشۂ عمر دوام آ ہی گیا

پاسباں کرتے رہے سرگوشیاں ہی اور کچھان کی محفل سے بہ عز و احترام آ ہی گیا

جانے کن نظروں سے دیکھا آج ساقی نے مجھےمیں تو یہ سمجھا کہ مجھ تک دور جام آ ہی گیا

اب اسی کو زندگی کہہ لیجئے یا صبح مرگآنکھ کھولی تھی کہ سر پر وقت شام آ ہی گیا

ترک مے کو مدتیں گزری ہیں لیکن محتسبساقئ مہوش اگر آتش بہ جام آ ہی گیا

ہائے یہ عالم کہ اب ترک وفا کے بعد بھیدل میں ہوک اٹھی نہ اٹھی لب پہ نام آ ہی گیا

لذت رنگینئ اشعار کیا کہئے شکیلؔکچھ نہ کچھ احباب کو لطف کلام آ ہی گیا

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں