8 اشعار

لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر

Lamha Lamha Baar Hai Tere Baghair

لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر

«لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیرزندگی دشوار ہے تیرے بغیر

دل کی بے تابی کا عالم کیا کہوںہر نفس تلوار ہے تیرے بغیر

مجمع احباب و ارباب وفامجمع اغیار ہے تیرے بغیر

تجھ سے برہم ہوں کبھی خود سے خفاکچھ عجب رفتار ہے تیرے بغیر

زندگی سے موت اک اک گام پربر سر پیکار ہے تیرے بغیر

عالم فرقت میں ذکر خواب کیانیند خود بیدار ہے تیرے بغیر

شام غم کروٹ بدلتا ہی نہیںوقت بھی خوددار ہے تیرے بغیر

آ مسیحا آ کہ اب تیرا شکیلؔجان سے بے زار ہے تیرے بغیر

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں