5 اشعار

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے

Kaise Keh Dun Ki Mulaqat Nahin Hoti Hai

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے

«کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہےروز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے

آپ للہ نہ دیکھا کریں آئینہ کبھیدل کا آ جانا بڑی بات نہیں ہوتی ہے

چھپ کے روتا ہوں تری یاد میں دنیا بھر سےکب مری آنکھ سے برسات نہیں ہوتی ہے

حال دل پوچھنے والے تری دنیا میں کبھیدن تو ہوتا ہے مگر رات نہیں ہوتی ہے

جب بھی ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیسے ہو شکیلؔاس سے آگے تو کوئی بات نہیں ہوتی ہے

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں