12 اشعار

ایک کینسر کے مریض کی بڑبڑ

ek cancer ke mariz ki baD-baD

گلے پر لگا کر نشاںجس گھڑی ڈاکٹر نے یہ مجھ سے کہا

اور تو سارے پرہیز ختم آپ کے آج سےشیو مت کیجئے گا

جب تلک یہ گلے کی سکائی چلےشیو مت کیجئے گا

تو ساری مشیت خدا کی سمجھ میں مرے آ گئیارے

مجھ کو داڑھی سے انکار کب تھا جو یہ رخ نکالا گیامیں تو خود شیو کے نام سے

یوں بدکتا رہا آج تک جیسے پانی سے بلیہاں مری ساس کو کچھ ضرور اعتراضات تھے

جن کی عزت کی خاطرمیں داڑھی نہیں رکھ سکا

مگر ان کو بھی میںاگر وقت ملتا تو سمجھا ہی لیتا

خیراب تو جو ہونا تھا ہو ہی گیا

یوں بھی کس کو بھلا کوئی موقع ملا ہے خدا کے حضوربات رکھنے کی اپنی

تو یہ بات ہےیعنی میں

شکل سے پکا سچا مسلماں نہ لگنے کے شک میں گیا

— شارق کیفی