12 اشعار

بیچ بھنور سے لوٹ آؤں گا

bich bhanwar se lauT aaunga

پاگل سمجھا ہے کیا مجھ کوڈوب مروں میں

اور سب اس منظر سے اپنا دل بہلائیںبچوں کو کاندھوں پر لے کر

اچک اچک کر مجھ کو دیکھیںہنسی اڑائیں

لاکھ مری اپنی وجہیں ہوں جاں دینے کیلیکن پھر بھی

دل میں میرے بھی ہے وہ بے معنی خواہشجاتے جاتے سب کی آنکھیں نم کرنے کی

میری سمجھ سےاتنا حق تو ہے

جاں دینے والے کا دنیا والوں پرشرکت کر لیں

وہ اس پل میں تھوڑا سا سنجیدہ ہو کرجاں دینے آیا ہوں لیکن

یہ بتلا دوںجان لڑا دوں گا میں جان بچانے میں گر

ایک تماشا دیکھنے والے کو بھی ہنستا دیکھا خود پرلوٹ آؤں گا

کہہ دیتا ہوںایسا کچھ بھی اگر ہوا تو

بیچ بھنور سے لوٹ آؤں گا

— شارق کیفی