8 اشعار

اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے

ek din KHud ko apne pas biThaya humne

اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نےپہلے یار بنایا پھر سمجھایا ہم نے

خود بھی آخر کار انہی وعدوں سے بہلےجن سے ساری دنیا کو بہلایا ہم نے

بھیڑ نے یوں ہی رہبر مان لیا ہے ورنہاپنے علاوہ کس کو گھر پہنچایا ہم نے

موت نے ساری رات ہماری نبض ٹٹولیایسا مرنے کا ماحول بنایا ہم نے

گھر سے نکلے چوک گئے پھر پارک میں بیٹھےتنہائی کو جگہ جگہ بکھرایا ہم نے

ان لمحوں میں کس کہ شرکت کیسی شرکتاسے بلا کر اپنا کام بڑھایا ہم نے

دنیا کے کچے رنگوں کا رونا رویاپھر دنیا پر اپنا رنگ جمایا ہم نے

جب شارقؔ پہچان گئے منزل کی حقیقتپھر رستہ کو رستہ بھر الجھایا ہم نے

— شارق کیفی