9 اشعار

آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی

aaine ka sath pyara tha kabhi

آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھیایک چہرے پر گزارا تھا کبھی

آج سب کہتے ہیں جس کو ناخداہم نے اس کو پار اتارا تھا کبھی

یہ مرے گھر کی فضا کو کیا ہواکب یہاں میرا تمہارا تھا کبھی

تھا مگر سب کچھ نہ تھا دریا کے پاراس کنارے بھی کنارا تھا کبھی

کیسے ٹکڑوں میں اسے کر لوں قبولجو مرا سارے کا سارا تھا کبھی

آج کتنے غم ہیں رونے کے لیےاک ترے دکھ کا سہارا تھا کبھی

جستجو اتنی بھی بے معنی نہ تھیمنزلوں نے بھی پکارا تھا کبھی

یہ نئے گمراہ کیا جانیں مجھےمیں سفر کا استعارہ تھا کبھی

عشق کے قصے نہ چھیڑو دوستومیں اسی میداں میں ہارا تھا کبھی

— شارق کیفی