6 اشعار

گلہ یہ نہیں ہے کہ بے گھر کیا

gila ye nahin hai ki be-ghar kiya

گلہ یہ نہیں ہے کہ بے گھر کیاہوا نے میرا ذکر باہر کیا

ترے نام پر آنچ آنے نہ دیتماشہ گلی سے نکل کر کیا

جو رستہ بہت دور تک تھا خراباسے گھر کے آگے برابر کیا

ہماری جگہ تھی مگر عمر بھرکسی کو اٹھایا تو بستر کیا

نظر کے اشاروں میں کھوئے رہےیہی کام دونوں نے دن بھر کیا

جو لکھے ہوے تھے وہ کاٹے نہیںترا نام نیچے سے اوپر کیا

— شارق کیفی