6 اشعار

کچھ ساغر چھلکانے تک محدود رہا

kuchh saghar chhalkane tak mahdud raha

کچھ ساغر چھلکانے تک محدود رہاگھر کا غم میخانے تک محدود رہا

بیچ بیچ میں میرا ہوش میں آنا بھیمنظر کو دھندلانے تک محدود رہا

آج کا قصہ شہزادے کی باتوں میںپریوں کے آ جانے تک محدود رہا

شہر کی سرحد چند قدم پر تھی لیکندیوانہ ویرانے تک محدود رہا

صاف تھی اس کی ہر آہٹ ہر سانس مگرمیں خود کو چونکانے تک محدود رہا

رک رک کر آتی سانسوں کا دھوکہ بھیصرف اسے جھٹلانے تک محدود رہا

— شارق کیفی