6 اشعار

بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے

Be-gharī hai kahāñ ṭhikānā hai

بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہےکیا خبر کتنی دور جانا ہے

آپ یہ بوجھ کہہ رہے ہیں جسےہم نے اک عمر تک اٹھانا ہے

اس کی حرمت پہ حرف آتے ہیہم فقیروں نے ہار جانا ہے

ہم کسی اور ہی زمانے سےیہ کوئی اور ہی زمانا ہے

ہم کو زخموں کی فکر لاحق ہےآپ نے قافیہ نبھانا ہے

یہ جو خاموش ہے یہ دانش ہےشہر نے غلغلا مچانا ہے

— تنویر دانش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں