6 اشعار

کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں

Kitab-e-zeest mein chahat ke baab the hi nahin

کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیںکہ اس کتاب کے ہم انتساب تھے ہی نہیں

حیات پوچھ رہی تھی سوال ایسے بھیسوال ایسے کہ جن کے جواب تھے ہی نہیں

ترے جہان کے وہ لوگ کیا ہوے یا ربزبان کند اور آنکھوں میں خواب تھے ہی نہیں

ہمارے گرد گھمائی گئی کہانی مگرہم اس کی حسبِ ضرورت خراب تھے ہی نہیں

اسے بتا کہ ملے ہیں ترے بگاڑے ہوئےاسے بتا کہ یہ عالی جناب تھے ہی نہیں

تمہاے شہر میں رکتے بھی کس طرح دانشتمہارے شہر میں چہرے گلاب تھے ہی نہیں

— تنویر دانش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں