4 اشعار

اے گلِ زرد تجھے زرد نہیں ہونا تھا

Ae gul-e-zard tujhe zard nahīñ honā thā

اے گلِ زرد تجھے زرد نہیں ہونا تھاتو یہاں پر ہے تجھے اور کہیں ہوناتھا

تیری مسکان تھی ضامن کہ بہار آئی ہےکون جانے کہ کبھی تجھ کو حزیں ہونا تھا

یہ اداسی تیری آنکھوں کے لیے تھی ہی نہیںتیری آنکھوں میں کوئی خواب حسیں ہونا تھا

گردشِ وقت تیرے ہاتھ پہ بیعت کرتیتجھ کو تو اور حسیں اور حسیں ہونا تھا

— تنویر دانش