7 اشعار

تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے

Terī galī ke jinheñ bām o dar dikhāye ga'e

تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئےکلیجہ تھام کے کہنے لگے کہ ہائے گئے

ہجوم رقص میں رہتا ہے تیری یادوں کاکہ ہم تو ہجر سے بیکار میں ڈرائے گئے

ہمارے نام سے تم کو پکارا جانے لگاتمہارے شہر میں دو چار بار آئے گئے

جنابِ من ہمیں نوکِ سناں سے نسبت ہےوہ اور لوگ تھے تخت پر بٹھائے گئے

ہمارا کام چلایا تمہاری آنکھوں نےیہ آئینے تو بہت بعد میں بنائے گئے

ہماری آنکھ سے لالی ادھار مانگی گئیتمہارے ہاتھ میری جان جب حنائے گئے

یہ جن کو اپنی دکاں میں سجائے پھرتے ہویہ سارے خواب مری آنکھ سے چرائے گئے

— تنویر دانش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں