بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بس
بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بساپنا ہے بے ضرر سا شغف دیکھتے ہیں بس
وہ جن کو مانگنا بھی پڑے اور لوگ ہیںہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بساپنا ہے بے ضرر سا شغف دیکھتے ہیں بس
وہ جن کو مانگنا بھی پڑے اور لوگ ہیںہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس
کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑےسیڑھیاں آتی رہیں سانپ کا خانہ نہ پڑے
دیکھ معمار پرندے بھی رہیں گھر بھی بنےنقشہ ایسا ہو کوئی پیڑ گرانا نہ پڑے
جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گایہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات میرے گریہ سے کم بنے گا
میں دشت ہوں یہ مغالطہ ہے نہ شاعرانہ مبالغہ ہےمرے بدن پر کہیں قدم رکھ کے دیکھ نقش قدم بنے گا
ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھےمیں نے بھی مل کے منہ پہ کہا دکھ ہوا مجھے
میں چاہتا تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ خوش رہےلیکن وہ خوش ہوا تو بڑا دکھ ہوا مجھے