7 اشعار

بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیے

Bahar aayi hai aaraish-e-chaman ke liye

بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیےمری بھی طبع کو تحریک ہے سخن کے لیے

خیال تک نہ کیا اہل انجمن نے کبھیتمام رات جلی شمع انجمن کے لیے

وطن میں آنکھ چراتے ہیں ہم سے اہل وطنتڑپتے رہتے ہیں غربت میں ہم وطن کے لیے

چمن کے دام سے جائیں گے ہم کہاں صیادقفس فضول ہے پروردۂ چمن کے لیے

میں قید اشک سے آزاد ہوں محبت میںکہ تجھ کو شمع بنانا ہے انجمن کے لیے

زبان اہل بصیرت پہ عرض حیرت ہےسکوت داد ہے گویا مرے سخن کے لیے

فروغ طبع خدا داد گرچہ تھا وحشتؔریاض کم نہ کیا ہم نے کسب فن کے لیے

— وحشت رضا علی