8 اشعار

آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے

Aankh mein jalwa tera dil mein teri yaad rahe

آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہےیہ میسر ہو تو پھر کیوں کوئی ناشاد رہے

اس زمانے میں خموشی سے نکلتا نہیں کامنالہ پر شور ہو اور زوروں پہ فریاد رہے

درد کا کچھ تو ہو احساس دل انساں میںسخت ناشاد ہے دائم جو یہاں شاد رہے

اے ترے دام محبت کے دل و جاں صدقےشکر ہے قید علائق سے ہم آزاد رہے

نالہ ایسا ہو کہ ہو اس پہ گمان نغمہرہے اس طرح اگر شکوۂ بیداد رہے

ہر طرف دام بچھائے ہیں ہوس نے کیا کیاکیا یہ ممکن ہے یہاں کوئی دل آزاد رہے

جب یہ عالم ہو کہ منڈلاتی ہو ہر سمت کو برقکیوں کوئی نوحہ گر خرمن برباد رہے

اب تصور میں کہاں شکل تمنا وحشتؔجس کو مدت سے نہ دیکھا ہو وہ کیا یاد رہے

— وحشت رضا علی