7 اشعار

ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا

Tere aashufta se kya haal-e-betaabi bayaan hoga

ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگاجبین شوق ہوگی اور تیرا آستاں ہوگا

زبان شمع محفل سے سنا ہے اہل محمل نےترا انجام کیا پروانۂ آتش بجاں ہوگا

تلاطم ہے امیدوں کا تصادم آرزوؤں کادل ہنگامہ پرور کون تیرا راز داں ہوگا

رہیں یوں ہی اگر رنگینیاں طرز تبسم کیمرے زخم جگر پر خندۂ گل کا گماں ہوگا

تجمل سے گزر ہوگا ترے کوچے میں عاشق کاتمناؤں کا لشکر کارواں در کارواں ہوگا

کبھی توفیق ترک‌ ماسوا کی ہو ہی جائے گیدل آزاد ہوگا اور عیش جاوداں ہوگا

سرور افزا و مستی خیز و شورش آفریں ہوگیوہ بزم شعر جس میں وحشتؔ شیوا بیاں ہوگا

— وحشت رضا علی