9 اشعار

تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا

Teer-e-nazar ne zulm ko ehsaan bana diya

تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیاترکیب دل نے درد کو درماں بنا دیا

صد شکر آج ہو گئی تکمیل عشق کیاپنے کو خاک کوچۂ جاناں بنا دیا

کوتاہی کوئی دست جنوں سے نہیں ہوئیدامن کو ہم کنار گریباں بنا دیا

چھوڑی ہے جب سے میں نے سلامت روی کی چالدشواریوں کو راہ کی آساں بنا دیا

اے مشعل امید یہ احسان کم نہیںتاریک شب کو تو نے درخشاں بنا دیا

حسن آفریں ہوا ہے تصور جمال کادل کو ہوائے گل نے گلستاں بنا دیا

زہد اور اتقا پہ مجھے اپنے ناز تھاخود میں نے تجھ کو دشمن ایماں بنا دیا

آئینۂ جمال کو دیکھوں گا کس طرحاس نے تو پہلے ہی مجھے حیراں بنا دیا

وہ امتیاز حسن ہے معنی و لفظ کاوحشتؔ کو جس نے غالبؔ دوراں بنا دیا

— وحشت رضا علی