مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا
مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والاکہاں گیا مجھے ہنس ہنس کے ہارنے والا
ہماری جان گئی جائے دیکھنا یہ ہےکہیں نظر میں نہ آ جائے مارنے والا
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی
مہمان شاعر: وسیم بریلوی
مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والاکہاں گیا مجھے ہنس ہنس کے ہارنے والا
ہماری جان گئی جائے دیکھنا یہ ہےکہیں نظر میں نہ آ جائے مارنے والا
کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیاعمر بھر کس کس کے حصے کا سفر میں نے کیا
تو تو نفرت بھی نہ کر پائے گا اس شدت کے ساتھجس بلا کا پیار تجھ سے بے خبر میں نے کیا
کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہےمحبتوں میں کب اتنا حساب ہوتا ہے
بچھڑ کے مجھ سے تم اپنی کشش نہ کھو دینااداس رہنے سے چہرا خراب ہوتا ہے
اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دےمجھ تک میرے حصے کی دھوپ آنے دے
ایک نظر میں کئی زمانے دیکھے توبوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہےکسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے
وہ جتنی دور ہو اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہےمگر جب پاس آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے
میں اپنے خواب سے بچھڑا نظر نہیں آتاتو اس صدی میں اکیلا نظر نہیں آتا
عجب دباؤ ہے ان باہری ہواؤں کاگھروں کا بوجھ بھی اٹھتا نظر نہیں آتا