7 اشعار

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

Apne chehre se jo zahir hai chhupayen kaise

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

«اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسےتیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے

گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہےپہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے

لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرفسر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے

قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہےہنسنے والے تجھے آنسو نظر آئیں کیسے

پھول سے رنگ جدا ہونا کوئی کھیل نہیںاپنی مٹی کو کہیں چھوڑ کے جائیں کیسے

کوئی اپنی ہی نظر سے تو ہمیں دیکھے گاایک قطرے کو سمندر نظر آئیں کیسے

جس نے دانستہ کیا ہو نظر انداز وسیمؔاس کو کچھ یاد دلائیں تو دلائیں کیسے

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں