اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
کلام: وسیم بریلوی
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسےتیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہےپہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی
مہمان شاعر: وسیم بریلوی
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسےتیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہےپہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتاآنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تری کیاہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا
تمام عمر بڑے سخت امتحان میں تھاوہ فاصلہ جو ترے میرے درمیان میں تھا
پروں میں سمٹا تو ٹھوکر میں تھا زمانے کیاڑا تو ایک زمانہ مری اڑان میں تھا