15 اشعار

تیری یاد

Teri Yaad

تیری یاد

«تیری یاد» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرااجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سے

بے وفائی کی طرح پھیلی ہوئی راہوں سےنئی تہذیب کے آباد بیابانوں سے

دست مزدور پہ ہنستے ہوئے ایوانوں سےمیں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرا

گاؤں کی دوپہری دھوپ کے سناٹوں سےخشک نہروں کے کناروں پہ تھکی چھاؤں سے

اپنے دل کی طرح روئی ہوئی پگ ڈنڈی سےمیں تری یاد کو سینے سے لگائے پہونچا

بستیاں چھوڑ کے ترسے ہوئے ویرانوں میںتلخیٔ دہر سمیٹے ہوئے مے خانوں میں

خون انسان پہ پلتے ہوئے انسانوں میںجانے پہچانے ہوئے لوگوں میں انجانوں میں

میں تری یاد کو سینے سے لگائے پہونچااپنے احباب ترے غم کے پرستاروں میں

اپنی روٹھی ہوئی تقدیر کے غم خواروں میںاپنے ہم منزل و ہم راستہ فنکاروں میں

اور فن کار کی سانسوں کے خریداروں میںمیں تری یاد کو سینے سے لگائے پہونچا

یہ سمجھ کر کہ کوئی آنکھ ادھر اٹھے گیمیری مغموم نگاہی کو مجھے سمجھے گی

لیکن اے دوست یہ دنیا ہے یہاں تیرا غمایک انسان کو تسکین بھی دے سکتا ہے

ایک انسان کا آرام بھی لے سکتا ہےخوں میں ڈوبی ہوئی تحریر بھی بن سکتا ہے

ایک فن کار کی تقدیر بھی بن سکتا ہےساری دنیا کے مگر کام نہیں آ سکتا

سب کے ہونٹوں پہ ترا نام نہیں آ سکتا

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں