حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی
کلام: وسیم بریلوی
حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتیتو آج سر پہ ٹپکنے کو چھت نہیں ہوتی
ہمارے گھر کا پتہ پوچھنے سے کیا حاصلاداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی
مہمان شاعر: وسیم بریلوی
حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتیتو آج سر پہ ٹپکنے کو چھت نہیں ہوتی
ہمارے گھر کا پتہ پوچھنے سے کیا حاصلاداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی
جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہےکوئی اٹھتا ہے اور طوفان کا رخ موڑ دیتا ہے
مجھے بے دست و پا کر کے بھی خوف اس کا نہیں جاتاکہیں بھی حادثہ گزرے وہ مجھ سے جوڑ دیتا ہے
میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہواپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئی
اپنے احساس کی تحریک پہ شرماتی ہوئیاپنے قدموں کی بھی آواز سے کتراتی ہوئی