6 اشعار

کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے

Kahan sawab kahan kya azab hota hai

کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے

«کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہےمحبتوں میں کب اتنا حساب ہوتا ہے

بچھڑ کے مجھ سے تم اپنی کشش نہ کھو دینااداس رہنے سے چہرا خراب ہوتا ہے

اسے پتا ہی نہیں ہے کہ پیار کی بازیجو ہار جائے وہی کامیاب ہوتا ہے

جب اس کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں ہوتاتو کوئی آج کا عزت مآب ہوتا ہے

جسے میں لکھتا ہوں ایسے کہ خود ہی پڑھ پاؤںکتاب زیست میں ایسا بھی باب ہوتا ہے

بہت بھروسہ نہ کر لینا اپنی آنکھوں پردکھائی دیتا ہے جو کچھ وہ خواب ہوتا ہے

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں