6 اشعار

کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو

Kuch itna khauf ka mara hua bhi pyar na ho

کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو

«کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہووہ اعتبار دلائے اور اعتبار نہ ہو

ہوا خلاف ہو موجوں پہ اختیار نہ ہویہ کیسی ضد ہے کہ دریا کسی سے پار نہ ہو

میں گاؤں لوٹ رہا ہوں بہت دنوں کے بعدخدا کرے کہ اسے میرا انتظار نہ ہو

ذرا سی بات پہ گھٹ گھٹ کے صبح کر دینامری طرح بھی کوئی میرا غم گسار نہ ہو

دکھی سماج میں آنسو بھرے زمانے میںاسے یہ کون بتائے کہ اشک بار نہ ہو

گناہ گاروں پہ انگلی اٹھائے دیتے ہووسیمؔ آج کہیں تم بھی سنگسار نہ ہو

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں