شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
کلام: وسیم بریلوی
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیںاتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
پھر وہی تلخئ حالات مقدر ٹھہرینشے کیسے بھی ہوں کچھ دن میں اتر جاتے ہیں
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی
مہمان شاعر: وسیم بریلوی
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیںاتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
پھر وہی تلخئ حالات مقدر ٹھہرینشے کیسے بھی ہوں کچھ دن میں اتر جاتے ہیں
کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہووہ اعتبار دلائے اور اعتبار نہ ہو
ہوا خلاف ہو موجوں پہ اختیار نہ ہویہ کیسی ضد ہے کہ دریا کسی سے پار نہ ہو
میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتامگر یہ بات زمیں سے تو کہہ نہیں سکتا
کسی کے چہرے کو کب تک نگاہ میں رکھوںسفر میں ایک ہی منظر تو رہ نہیں سکتا