5 اشعار

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

Kya dukh hai samundar ko bata bhi nahin sakta

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

«کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتاآنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا

تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تری کیاہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا

پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالاتکس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا

گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاریمیں ہوں کہ چراغوں کو بجھا بھی نہیں سکتا

ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائےایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں