میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے
کلام: وسیم بریلوی
میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہےوقت پڑنے پہ ہاتھوں سے جاتے رہے
بارشیں آئیں اور فیصلہ کر گئیںلوگ ٹوٹی چھتیں آزماتے رہے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی
مہمان شاعر: وسیم بریلوی
میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہےوقت پڑنے پہ ہاتھوں سے جاتے رہے
بارشیں آئیں اور فیصلہ کر گئیںلوگ ٹوٹی چھتیں آزماتے رہے
محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہےجو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے
اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہےجو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے