6 اشعار

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا

Sabhi ka dhoop se bachne ko sar nahin hota

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا

«سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتاہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتا

کبھی لہو سے بھی تاریخ لکھنی پڑتی ہےہر ایک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا

میں اس کی آنکھ کا آنسو نہ بن سکا ورنہمجھے بھی خاک میں ملنے کا ڈر نہیں ہوتا

مجھے تلاش کروگے تو پھر نہ پاؤ گےمیں اک صدا ہوں صداؤں کا گھر نہیں ہوتا

ہماری آنکھ کے آنسو کی اپنی دنیا ہےکسی فقیر کو شاہوں کا ڈر نہیں ہوتا

میں اس مکان میں رہتا ہوں اور زندہ ہوںوسیمؔ جس میں ہوا کا گزر نہیں ہوتا

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں