5 اشعار

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

Sham tak subh ki nazron se utar jaate hain

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

«شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیںاتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

پھر وہی تلخئ حالات مقدر ٹھہرینشے کیسے بھی ہوں کچھ دن میں اتر جاتے ہیں

اک جدائی کا وہ لمحہ کہ جو مرتا ہی نہیںلوگ کہتے تھے کہ سب وقت گزر جاتے ہیں

گھر کی گرتی ہوئی دیواریں ہی مجھ سے اچھیراستہ چلتے ہوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں

ہم تو بے نام ارادوں کے مسافر ہیں وسیمؔکچھ پتہ ہو تو بتائیں کہ کدھر جاتے ہیں

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں