6 اشعار

تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا

Tehreer se warna meri kya ho nahin sakta

تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا

«تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتااک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتا

آنکھوں میں خیالات میں سانسوں میں بسا ہےچاہے بھی تو مجھ سے وہ جدا ہو نہیں سکتا

جینا ہے تو یہ جبر بھی سہنا ہی پڑے گاقطرہ ہوں سمندر سے خفا ہو نہیں سکتا

گمراہ کئے ہوں گے کئی پھول سے جذبےایسے تو کوئی راہنما ہو نہیں سکتا

قد میرا بڑھانے کا اسے کام ملا ہےجو اپنے ہی پیروں پہ کھڑا ہو نہیں سکتا

اے پیار ترے حصے میں آیا تری قسمتوہ درد جو چہروں سے ادا ہو نہیں سکتا

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں