نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے
کلام: وسیم بریلوی
نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتےیہاں منظر ہی ایسے ہیں کہ دل بھرنے نہیں دیتے
یہ لوگ اوروں کے دکھ جینے نکل آئے ہیں سڑکوں پراگر اپنا ہی غم ہوتا تو یوں دھرنے نہیں دیتے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی
مہمان شاعر: وسیم بریلوی
نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتےیہاں منظر ہی ایسے ہیں کہ دل بھرنے نہیں دیتے
یہ لوگ اوروں کے دکھ جینے نکل آئے ہیں سڑکوں پراگر اپنا ہی غم ہوتا تو یوں دھرنے نہیں دیتے
نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیاہمیں کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیا
جلا کے رکھ لیا ہاتھوں کے ساتھ دامن تکتمہیں چراغ بجھانا بھی تو نہیں آیا
تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتااک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتا
آنکھوں میں خیالات میں سانسوں میں بسا ہےچاہے بھی تو مجھ سے وہ جدا ہو نہیں سکتا