تیری یاد
میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرااجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سے
بے وفائی کی طرح پھیلی ہوئی راہوں سےنئی تہذیب کے آباد بیابانوں سے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی
مہمان شاعر: وسیم بریلوی
میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرااجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سے
بے وفائی کی طرح پھیلی ہوئی راہوں سےنئی تہذیب کے آباد بیابانوں سے
دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہووہ زندگی ہی نہیں ہے جو ناتمام نہ ہو
جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے صدیوں سےکہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو
سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھکتنا بڑا مذاق ہوا روشنی کے ساتھ
شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھکیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ
سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھکتنا بڑا مذاق ہوا روشنی کے ساتھ
شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھکیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ
کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھیتجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی
کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیںپھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی