6 اشعار

اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے

Ab koi yaar hai na beli hai

اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے

«اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہےزندگی درد کی سہیلی ہے

اُٹھنے جوگا نہیں ہے تیرے بعددل نے تکلیف ایسی جھیلی ہے

شام سے اس لیے محبت ہےتیری یادوں کے ساتھ کھیلی ہے

مُضطرب کیوں نہ ہو شبِ ہجراںدرد کی گود میں اکیلی ہے

کوئی بتلائے خواب کا مفہومرات ہے، سانپ ہے، چنبیلی ہے

ان لکیروں میں تُو نہیں تو وصیکتنی ویران یہ ہتھیلی ہے

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں