10 اشعار

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے

Abhi to ishq mein aisa bhi haal hona hai

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے

«ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہےکہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے

ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانےترے ستم کو ابھی لا زوال ہونا ہے

بجا کہ خواب ہیں لیکن بہار کی رت میںیہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے

تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گےتمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے

ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گےتمہاری یاد کو اس دل کو ڈھال ہونا ہے

کبھی تو روئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میںکبھی تو اس کی ہنسی کو زوال ہونا ہے

ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاںبس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے

ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پرمحبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے

زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائےہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے

وصیؔ یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گااسے بھی اپنے کئے کا ملال ہونا ہے

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں