12 اشعار

کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا

Kisi Ki Aankh Se Sapne Chura Kar Kuchh Nahin Milta

کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا

«کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتامنڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا

ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئینئے افلاک پہ پہرے بٹھا کر کچھ نہیں ملتا

کوئی اک آدھ سپنا ہو تو پھر اچھا بھی لگتا ہےہزاروں خواب آنکھوں میں سجا کر کچھ نہیں ملتا

سکوں ان کو نہیں ملتا کبھی پردیس جا کر بھیجنہیں اپنے وطن سے دل لگا کر کچھ نہیں ملتا

اسے کہنا کہ پلکوں پر نہ ٹانکے خواب کی جھالرسمندر کے کنارے گھر بنا کر کچھ نہیں ملتا

یہ اچھا ہے کہ آپس کے بھرم نہ ٹوٹنے پائیںکبھی بھی دوستوں کو آزما کر کچھ نہیں ملتا

نہ جانے کون سے جذبے کی یوں تسکین کرتا ہوںبظاہر تو تمہارے خط جلا کر کچھ نہیں ملتا

فقط تم سے ہی کرتا ہوں میں ساری راز کی باتیںہر اک کو داستان دل سنا کر کچھ نہیں ملتا

عمل کی سوکھتی رگ میں ذرا سا خون شامل کرمرے ہمدم فقط باتیں بنا کر کچھ نہیں ملتا

اسے میں پیار کرتا ہوں تو مجھ کو چین آتا ہےوہ کہتا ہے اسے مجھ کو ستا کر کچھ نہیں ملتا

مجھے اکثر ستاروں سے یہی آواز آتی ہےکسی کے ہجر میں نیندیں گنوا کر کچھ نہیں ملتا

جگر ہو جائے گا چھلنی یہ آنکھیں خون روئیں گیوصیؔ بے فیض لوگوں سے نبھا کر کچھ نہیں ملتا

— وصی شاہ