10 اشعار

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو

Baandh Lein Haath Pe Seene Pe Saja Lein Tum Ko

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو

«باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کوجی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو

پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیںکیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو

جیسے بالوں میں کوئی پھول چنا کرتا ہےگھر کے گلدان میں پھولوں سا سجا لیں تم کو

کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میںکر کے منا سا ہواؤں میں اچھالیں تم کو

اس قدر ٹوٹ کے تم پہ ہمیں پیار آتا ہےاپنی بانہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو

کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہوکبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تم کو

ہے تمہارے لیے کچھ ایسی عقیدت دل میںاپنے ہاتھوں میں دعاؤں سا اٹھا لیں تم کو

جان دینے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہوورنہ مر جائیں ابھی مر کے منا لیں تم کو

جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نوراپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تم کو

اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کسی موڑ پر تمہم کو بکھرے ہوئے مل جاؤ سنبھالیں تم کو

— وصی شاہ