9 اشعار

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

Samundar Mein Utarta Hoon To Aankhein Bheeg Jaati Hain

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

«سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیںتری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سےکوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہےترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

نہ جانے ہو گیا ہوں اس قدر حساس میں کب سےکسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جوں ہیقدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیںکوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کوغریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

ترے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہےمگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

زاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پروصیؔ میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں