9 اشعار

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے

Dil Ki Chaukhat Pe Jo Ik Deep Jala Rakha Hai

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے

«دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہےتیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے

سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقتہم نے اس کام کو بھی کل پہ اٹھا رکھا ہے

روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہوہم نے یہ سوچ کے ہی تم کو خفا رکھا ہے

تم جسے روتا ہوا چھوڑ گئے تھے اک دنہم نے اس شام کو سینے سے لگا رکھا ہے

چین لینے نہیں دیتا یہ کسی طور مجھےتیری یادوں نے جو طوفان اٹھا رکھا ہے

جانے والے نے کہا تھا کہ وہ لوٹے گا ضروراک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ہے

تیرے جانے سے جو اک دھول اٹھی تھی غم کیہم نے اس دھول کو آنکھوں میں بسا رکھا ہے

مجھ کو کل شام سے وہ یاد بہت آنے لگادل نے مدت سے جو اک شخص بھلا رکھا ہے

آخری بار جو آیا تھا مرے نام وصیؔمیں نے اس خط کو کلیجے سے لگا رکھا ہے

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں