4 اشعار

جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا

Jab gham meri dhadkan meri baaton se ayaan tha to kahan tha

جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا

«جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے اسمارامہر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھاجب چاروں طرف درد کے دریا کا سماں تھا تو کہاں تھا

اب آیا ہے جب ڈھل گئے ہیں سبھی موسم مرے ہمدمجب تیرے لیے میرا ہر احساس جواں تھا تو کہاں تھا

اب صرف خموشی ہے مقدرکا ستارہ، مرے یاراجب لب پہ فقط تیرا فقط تیرا بیاں تھا تو کہاں تھا

اب آیا ہے جب کام دکھا بھی گیاساون، مرے ساجنجب چار سو مرے لیے خوشیوں کا سماں تھا تو کہاں تھا

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں