6 اشعار

تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تم

Tum mere dard bhi, gham bhi, mere aalaam bhi tum

تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تم

«تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تم» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تمتم میرا چین ہو جاناں، میرا آرام بھی تم

کامیابی کو نہیں ہم نے تمہیں چاہا ہے،ہم تمہارے ہیں بھلے ہو گئے ناکام بھی تم

میں مسیحا ہوں اگر ، میرا وظیفہ تم ہو،میں ہوں مجرم تو میری جان میرا الزام بھی تم

مختلف حیلوں ، بہانوں سے مجھے سوچتے ہو،ایک دن کھل کے پکارو گے میرا نام بھی تم

رات دن تم کو، فقط تم کو مجھے سوچنا ہے،میری فرصت بھی تمہی اور میرا کام بھی تم

جس سے روشن میرا آنگن ہے تمہی ہو وہ چراغ،سچ تو یہ ہے کہ تمہی گھر ہو در و بام بھی تم

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں