8 اشعار

تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیا

Tum se poocha na gaya hum se bataya na gaya

تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیا

«تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیا» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیاپھر بھی جو دل میں چھپا تھا وہ چھپایا نہ گیا

عشق کی گلیوں میں اک عمر گزاری لیکناب یہ لگتا ھے میں اس شہر میں آیا نہ گیا

ورنہ کس کس نے نہیں چاہا ھمارا ھونادل ترے بعد کسی سے بھی لگایا نہ گیا

اس نے اک بار نکالا تھا مجھے محفل سےپھر مرے پاؤں بھی پکڑے میں دوبارہ نہ گیا

عمر بھر ساتھ رھے پھول کی خوشبو جیسےلفظ تو بھول گئے روح سے لہجہ نہ گیا

میں نے اک بار کبھی پانی پلایا تھا اسےچھت کبھی چھوڑ کے پھر میری پرندہ نہ گیا

جسکو دیوانہ کہا جسکا اڑاتے تھے مذاقھوش والوں کو مبارک ھو وہ دیوانہ--- گیا

خامیاں اس نے بھی مجنوں میں نکالی ہیں وصیجس تلک عشق تو کیا عشق کا سایہ نہ گیا

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں