7 اشعار

اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہے

Us ne baalon mein jo ek phool lagaya hua hai

اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہے

«اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہے» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہےباغ کا باغ اسے دیکھنے آیا ہوا ہے

ہے یہ نفرت کے محبت نہیں معلوم مگرایک ہی شخص میرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے

تو نہ مانے گی مگر میری محبت کے طفیلتیرے چہرے پہ عجب نور سا آیا ہوا ہے

تتلیو کیسے میں سمجھاؤں تمہیں زخم ہے زخمیہ الگ بات کہ پھولوں سا سجایا ہوا ہے

جب بھی کرتا ہے تیرے بعد کوئی پیار کی باتمجھ کو لگتا ہے کہ یہ گیت تو گایا ہوا ہے

گھونسلہ گرنے پہ چڑیاں جو کیا کرتی ہیںتیری یادوں نے وہی شور مچایا ہوا ہے

کوئی پوچھے تو کہا کرتی ہےوہ کون وصیجس نے آنچل میرے شیروں سے سجایا ہوا ہے

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں