بانجھ
کلام: وزیر آغا
چھتوں منڈیروں اور پیڑوں پرڈھلتی دھوپ کے اجلے کپڑے سوکھ رہے تھے
بادل سرخ سی جھالر والے بانکے بادلہنستے چہکتے پھولوں کا اک گلدستہ تھے
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
چھتوں منڈیروں اور پیڑوں پرڈھلتی دھوپ کے اجلے کپڑے سوکھ رہے تھے
بادل سرخ سی جھالر والے بانکے بادلہنستے چہکتے پھولوں کا اک گلدستہ تھے
تم جو آتے ہوتو کچھ بھی نہیں رہتا موجود
تم چلے جاتے ہواور بولنے لگتے ہیں تمام