اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے
کلام: وزیر آغا
اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کےوہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے
زرد رو ایک ہی پل میں ہوئی مدھ ماتی شاملال ہونے بھی نہ پائے تھے ابھی گال اس کے
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کےوہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے
زرد رو ایک ہی پل میں ہوئی مدھ ماتی شاملال ہونے بھی نہ پائے تھے ابھی گال اس کے
اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دےآواز جرس اب کے برس مجھ کو ہنسا دے
یا ابر کرم بن کے برس خشک زمیں پریا پیاس کے صحرا میں مجھے جینا سکھا دے
پتھروں کی قید میں اک آب جوبے کراں نیلا سمندر چار سو
ریزہ ریزہ ہو گیا ہوں میں اگرچور وہ بھی ہو چکا ہے مو بہ مو