9 اشعار

سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا

Sikha diya hai zamane ne be-basar rehna

سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا

«سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہناخبر کی آنچ میں جل کر بھی بے خبر رہنا

سحر کی اوس سے کہنا کہ ایک پل تو رکےکہ ناپسند ہے ہم کو بھی خاک پر رہنا

تمام عمر ہی گزری ہے دستکیں سنتےہمیں تو راس نہ آیا خود اپنے گھر رہنا

وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیںطویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا

سفر عزیز ہوا کو مگر عزیز ہمیںمثال نکہت گل اس کا ہم سفر رہنا

شجر پہ پھول تو آتے رہے بہت لیکنسمجھ میں آ نہ سکا اس کا بے ثمر رہنا

عجیب طرز تکلم ہے اس کی آنکھوں کاخموش رہ کے بھی لفظوں کی دھار پر رہنا

ورق ورق نہ سہی عمر رائیگاں میریہوا کے ساتھ مگر تم نہ عمر بھر رہنا

ذرا سی ٹھیس لگی اور گھر کو اوڑھ لیاکہاں گیا وہ تمہارا نگر نگر رہنا

— وزیر آغا