7 اشعار

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے

Uski aawaz mein the sare khad-o-khaal uske

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے

«اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کےوہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے

زرد رو ایک ہی پل میں ہوئی مدھ ماتی شاملال ہونے بھی نہ پائے تھے ابھی گال اس کے

کہکشاؤں میں تڑپتے تھے ستاروں کے پرندسبز آکاش پہ ہر سو تھے بچھے جال اس کے

کاٹ ہی لیں گے جدائی کا زمانہ ہم تودیکھیے کیسے گزرتے ہیں مہ و سال اس کے

ایک دن ہم بھی کھلے اس کی حسیں راہوں میںایک دن پاؤں میں ہم بھی ہوئے پامال اس کے

چاندنی اس کا بدن چاند ہے اس کا چہرہکھیتیاں دھان کی آنکھوں کے حسیں تال اس کے

رت جگا ہم بھی منائیں کہ سنا ہے ہم نےروز لکھتی ہے سحر خون سے احوال اس کے

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں